Urdu-A

12 شمس العلمائ خواجہ الطاف حسین حالیؔ

ڈاکٹر رئیسہ پروین

شمس العلمائ خواجہ الطاف حسین حالیؔ

تعارف، تنقید


Audio

شمس العلمائ خواجہ الطاف حسین حالیؔ ١٨٣٧  ئ  پانی پت میں  پیدا ہوئے۔ وہ انصاریوں  کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق حالیؔ نے قرآن شریف حفظ کرنے کے بعد رسمی تعلیم عربی و فارسی کی حاصل کی۔١٨٥٤ئ میں  حالیؔ دلّی آئے یہاں  مولوی نوازش علی جو اس زمانے کے مشہور معلم و واعظ تھے، ان سے سال ڈیڑھ سال عربی پڑھی۔ اس وقت تک ان کو صرف و نحو، منطق، عروض میں  کافی دستگاہ ہوگئی تھی۔١٨٥٦ئ میں  انھوں  نے کلکٹری حصار میں  ملازمت کرلی مگر١٨٥٧ئ کے ہنگامہ کی وجہ سے پانی پت واپس آگئے۔ اس دور میں  انھوں  نے منطق و فلسفہ کے ساتھ حدیث و تفسیر کی کتابوں  کا مطالعہ کیا۔ اتفاقاً نواب مصطفی خاں  شیفتہؔ کی صحبت میسر آئی اور حالیؔ انھیں  کے پاس جہاں  گیر آباد آگئے۔ شیفتہ ؔکی صحبت میں  شعر و شاعری کا پرانا شوق از سر نو تازہ ہوگیا۔ اب حالیؔ اپنی غزلیں  مرزا غالبؔ کو بغرض اصلاح دلّی بھیجنے لگے۔ شیفتہ ؔکی صحبت اور غالبؔ کی شاگردی نے ان کے کمالِ شاعری پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ حالی نواب شیفتہؔ کے یہاں  بحیثیت رفیق اور ان کے بیٹوں  کے معلم کے طور پر تقریباً آٹھ سال رہے۔ شیفتہ ؔکی وفات کے بعد وہ لاہور چلے آئے جو اس وقت دلّی کے غدر سے آئے ہوئے مہاجرین کی جاہِ پناہ بنا ہوا تھا۔ یہاں  ان کو گورنمنٹ بک ڈپو میں  ملازمت مل گئی۔ ان کا کام انگریزی سے اردو میں  ترجمہ کی ہوئی کتابوں  کی عبارت دیکھنا اور درست کرنا تھا۔ اس کام کے دوران حالیؔ کو انگریزی ادب سے بالواسطہ واقفیت حاصل ہوئی اور انھیں  انگریزی خیالات اورطرزِ ادا سے ایک خاص مناسبت پیدا ہوگئی جس کے زیر اثر مشرقی شاعری اور مشرقی انشائ پردازی کی وقعت ان کی نظروں  میں  حقیر ہوگئی اور یہیں  سے ان کے دل میں  اپنی زبان اور شاعری میں اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ لاہور سے چار برس بعد دہلی آئے اور اینگلو عربک اسکول میں  ٹیچر ہوئے۔ یہاں  ان کی ملاقات سرسید سے ہوئی جنھوں  نے حالیؔ کی ذہنی آبیاری میں  نمایاں  کردار ادا کیا اور حالیؔ نے سرسید کے زیراثر اپنی مشہور و معروف تصنیف ’’مسدسِ حالیؔ‘‘ لکھی۔

حالی کی زندگی ایک سچے انشاپرداز کی زندگی تھی جس نے اپنے تعلیمی و تصنیفی مشاغل کے آگے دنیوی مرتبہ و عزت کو ہمیشہ ہیچ جانا۔ قوم کی ہمدردی کا جذبہ ان میں  کوٹ کوٹ کر بھرا  ہواتھا مگر ان کاذہن و دل تعصب سے پاک تھا۔ ان کے ارادے بلند اور حوصلے قوی تھے۔

حالیؔ کی شاعری کی ابتدا دہلی میں  ہوئی۔ دہلی میں  مرزا غالبؔ کی صحبت میں  وہ اکثر آتے جاتے رہتے تھے اور انھیں  کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا تھا۔ اس دور میں  حالیؔ مشاعروں  میں  بھی شرکت کرتے تھے اس کے ساتھ نواب مصطفی خاں  شیفتہؔ کی صحبت میں  ان کی شاعرانہ طبیعت میں  پختگی آئی اور یہیں  سے انھوں  نے اپنی شاعری کا رنگ بدل کر مقصدی شاعری کی بنیاد ڈالی۔ غالبؔ اور شیفتہؔ سے مستفیض ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :

حالیؔ سخن میں  شیفتہؔ سے مستفیض ہوں

 شاگرد میرزا کا مقلد ہوں  میرؔ کا

 حالیؔ نے پرانے رنگ کی شاعری جس میں  گُل وبُلبل کے قصے ، ہجر و وصال کی کیفیات اور عشق و عاشقی کی باتوں  کو فضول جانا وہ بے لطف مبالغہ آرائی کو پسند نہیں  کرتے تھے۔ انھوں  نے ادب و شاعری میں  افادیت  پر زور دیا اور کسی بھی چیز یا جذبے کو سیدھے سادے الفاظ میں  حقیقی جذبات کے ساتھ بیان کرنے کو ترجیح دی۔ وہ ادب کو زندگی کا ترجمان بنانا چاہتے ہیں ۔ ان کی اس دور کی تحریروں  میں  اس جدید رجحانات کی ابتدا بخوبی نظر آتی ہے۔ انھوں  نے غیرحقیقی عناصر سے اردو شاعری کو آزاد کرانے کی کوشش کی اور ادب برائے زندگی کے ترجمان بن گئے۔وہ انگریزی شاعری کے مداح تھے۔ اس کی سادگی، صفائی اور بلند نظری کو بہت پسند کرتے تھے اور یہی خصوصیت اردو شاعری میں  بھی دیکھنے کے خواہاں  تھے۔ اسی زمانے میں ١٨٧٤ئ میں  لاہور میں  1874 میں  ایک ادبی انجمن قائم ہوئی جس کے بانی مولانا محمد حسین آزادؔ نے کرنیل ہالرائڈ ڈائرکٹر آف تعلیم پنجاب کی سرپرستی میں  انجمن پنجاب کے جلسوں  میں  نیچرل شاعری کی بنیاد ڈالی۔ حالیؔ نے اس انجمن کے جلسوں  میں  بڑی سرگرمی سے حصہ لیا اور  اپنی چار نظمیں  ’برکھا رُت‘، ’نشاطِ امید‘، ’مناظرۂ رحم و انصاف‘ اور ’حبِ وطن‘ اس کے مشاعروں  میں  پڑھیں  جنھیں  بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس انجمن پنجاب سے جدید نظم کا آغاز ہوتا ہے۔ ١٩٠٤ئ میں  اپنی قابلیت اور تعلیمی خدمات کے صلے میں  انھوں  نے سرکار سے شمس العلمائ کا خطاب حاصل کیا۔ ١٩١٤ئ میں  انھوں  نے وفات پائی۔

 سرسید نے اس زمانے میں  اصلاحی تحریک کی بنیاد ڈالی جس  کے تحت مسلمانوں  کو ان کے خوابِ غفلت سے بیدار کرکے انھیں  زمانے کے ساتھ چلنے کی تلقین کی اور جب  سرسیدنے حالیؔ کی طبیعت کے رنگ کو اپنے ہم آہنگ پایا تو انھوں  نے ان سے موجودہ مسلمانوں  کے زوال سے متعلق ایک نظم لکھنے کی فرمائش کی ’’مسدسِ حالی‘‘ اس کوشش کا نتیجہ تھی ۔ یہ کتاب بہت کامیاب ثابت ہوئی۔ حالی کی دوسری مشہور تصانیف میں  حیاتِ سعدی، مقدمہ شعروشاعری، یادگارِ غالب، حیاتِ جاوید وغیرہ ہیں ۔

حالی جدید شاعری کے علمبردار ہیں ۔ انھوں  نے شاعری میں  اصلیت، جوش اور سادگی کی روح پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس دور کی دہلی کی تباہی و بربادی کے حالات پر بہت سی موثر نظمیں  لکھی ہیں  اس میں  سے ایک حکیم محمود خاں  صاحب کا مرثیہ ہے جس میں  مسلمانوں  کی گزشتہ عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے زمانۂ حال کی پستی کو موثر الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے۔ وہ مسلم قوم کو اسی عظمت و رفعت سے ہمکنار کرنا چاہتے تھے جیسا کہ وہ گزرے زمانے میں  تھے۔ ان کے مخاطب اہلِ مذہب ہی نہیں  اہلِ وطن بھی تھے۔انھوں  نے عورتوں  کی بدحالی کو دیکھتے ہوئے عورتوں  سے متعلق اپنے اعلیٰ خیالات کو مختلف نظموں  میں  پیش کیا ہے جو ان کی نظمیں  ’چپ کی داد‘ ، ’مناجاتِ بیوہ‘ کی صورت میں  ظاہر ہوئے۔ ان کے آخری دور کا کلام فلسفیانہ اور عمیق ہے:

حالیؔ کی سن لو اور صدائیں  جگر خراش

دلکش صدا سنوگے نہ پھر اس صدا کے بعد

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

 اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جاکر نظر کہاں

SOHÿSTX١٨٩٣ئ میں  حالی کا دیوان شائع ہوا تو اس کے ساتھ ایک طویل اور مبسوط مقدمہ بھی تھا۔اس مقدمے میں  شاعری میں  اصلیت، جوش اور سادگی پر بحث کی گئی تھی۔ یہ مقدمہ شعر و شاعری کے نام سے مشہور ہوا ۔ اس مقدمہ کے ذریعے حالی نے باقاعدہ تنقیدنگاری کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے علاوہ انھوں  نے سوانح عمریاں  لکھ کر اردو میں  ایک نئی روش کا آغاز کیا اس میدان میں  شبلیؔ  نعمانی نے بھی نمایاں  خدمات انجام دیں ہیں ۔

حالیؔ سرسیدؔ کے تمام رفقائ میں  ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ۔ انھیں  یہ شرف حاصل ہے کہ انھوں  نے اردو شاعری کے قدیم رنگ و آہنگ کو بدلنے میں  نمایاں  حصہ لیا اور نمایاں  کامیابی حاصل کی۔ حالی نے شاعری اور نثر دونوں  میں  ہی قدیم رنگ کی جگہ جدید رنگ پیدا کرکے اپنی انفرادیت کا ثبوت دیا اور اردو ادب کی تاریخ میں  اہم مقام حاصل کرتے ہوئے شعروادب کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا۔

’مقدمہ شعر و شاعری‘ میں  حالی نے نفسِ شعر سے بحث کی ہے اور اس میں  زبان اور معنوی اصلاح کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حالی شعر و ادب میں  افادیت کے قائل ہیں  اور غزل و نظم کے موضوعات میں  تنوع چاہتے ہیں  جس میں  عاشقانہ، فلسفیانہ، صوفیانہ اور اخلاقی مضامین کا بیان ہو۔ اس کے علاوہ نیچرل اور قومی و سیاسی مضامین بھی جگہ پاسکیں ۔ انھوں  نے درستی زبان پر بھی زور دیا اور الفاظ و محاورات کی صحت کو ضروری قرار دیا۔ وہ شعر کے ظاہری لوازمات یعنی صنائع بدائع کو ضروری نہیں  سمجھتے تھے  اس کے علاوہ سنگلاخ زمینیں  اور مشکل ردیف و قافیہ جن کو قدیم شعرا اُستادانہ مہارت سے تعبیر کرتے تھے حالی ؔاس سے احتراز کرتے ہیں ۔ انھوں  نے اپنی شاعری میں  جس جدید رنگ کو اپنایا اس کو عملی طور پر ثابت بھی کردکھایا۔ لہٰذا آزادؔ اور حالیؔ اردو شاعری کے جدید رنگ کے بانی ٹھہرے۔ حالی کے کلام کی خصوصیات میں  نیچرل شاعر، مبالغہ و اغراق سے احتراز، سادگی، صفائی، درد و اثر ، عبارت  صاف و شستہ جلد سمجھ میں  آنے والی ہے۔ صنائع بدائع بہت کم ہے وہ شعروادب سے اصلاح کا کام لینا چاہتے ہیں ۔

١٨٥٧ئ سے پہلے حالی نے روایتی غزلیں  کہیں ، لیکن اس کے بعد انھوں  نے قومی مرثیہ خوانی اور تذکرۂ دہلی مرحوم کے لیے اپنے کلام کو وقف کردیا ۔ ان کے کلام میں  عشق و عاشقی بھی ہے لیکن ان میں  شوریدہ سری نہیں  ہے جو قدیم شاعری کی پہچان بن گئی تھی۔ حالی نے دھیمے اسلوب، متین لہجہ میں  عاشقانہ خیالات کا اظہار کرکے جذبات کی تپش کو مدھم کردیاہے اور نرم لہجے میں  اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ وہ شبلیؔ کی طرح نہ تو جذباتی ہیں  اور نہ آزادؔ کی طرح تخیل کے غلام بلکہ انھوں  نے دونوں  کے امتزاج سے اپنی روشِ خاص متعین کی ہے ۔ چند مثالیں  پیش ہیں :

عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید

خود بخود دل میں  ہے اک شخص سمایا جاتا

اب بھاگتے ہیں  سایۂ عشقِ بتاں  سے ہم

کچھ دل سے ہیں  ڈرے ہوئے کچھ آسماں  سے ہم

گو جوانی میں  تھی کج رائی بہت

پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

حالیؔ نے چوں  کہ اصلاحِ ادب اور اصلاحِ قوم کا بیڑہ اٹھایا تھا لہٰذا انھوں  نے اپنی زندگی اور قلم کو اصلاحی کاموں  کے لیے وقف کردیا۔ نظم ’’ترقی کی راہیں ‘‘ اسی خیال کے تحت لکھی گئی ہے جس میں  حالیؔ قوم کو ترقی  کی راہوں  پر گامزن ہونے کی ترغیب دلاتے ہوئے سائنس، علوم و فنون اور صنعت و حرفت کی تازہ ایجادات کی برکتوں  سے پیدا ہونے والی خوشحالی کی طرف لوگوں  کو بلاتے ہیں ۔