Urdu-A

14 داستان کی تعریف

ڈاکٹر رئیسہ پروین

داستان کی تعریف

رجب علی بیگ سرور۔ تعارف، تنقید

 فسانۂ شاہِ یمن۔ خلاصہ


Audio

داستانیں  دراصل مشرقی وسطیٰ سے آئی تھیں ۔ انیسویں  صدی اگر داستانوں  کی صدی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اس کا نصف آخر حصہ داستان گوئی اور داستان نگاری کے عروج کا زمانہ تھا، اس کے بعد بیسویں  صدی کی پہلی اور دوسری دہائی میں  مختصر افسانہ لکھنے کا انداز  بھی داستانی تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ افسانہ حقیقت نگاری کی طرف گامزن ہوگیا اور بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا ہوا انسان کی حقیقی زندگی کا ترجمان بن گیا۔

 قصہ کہانیوں  کا شوق، انسانی فطرت میں شامل ہے ۔جیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن ارتقائ کے مدارج طے کرتی گئی ویسے ویسے یہ شوق بھی پروان چڑھتا گیا۔ بادشاہوں ، راجائوں  اور نوابوں  کے درباروں  میں  باقاعدہ قصہ گو ملازم  رکھے جاتے تھے۔ ان قصوں  میں  بنیادی قصے کے ساتھ کئی ضمنی قصے بھی ہوا کرتے تھے جس سے سننے والے کی دلچسپی قصہ میں  برقرار رہتی تھی۔ زمانۂ قدیم کے تمام قصے طویل، بے ربط اور مافوق الفطرت عناصر سے بھرپور اور مبالغہ آمیز واقعات سے لبریز ہیں ، جن کو پڑھ کر حیرت و استعجاب کے سوا انسان پر دوسری کیفیت طاری نہیں  ہوپاتی۔ یہ قصے جن ، بھوت، پری، جادوگروں  کے کارناموں  سے بھرے پڑے ہیں ۔ ان قصے اور کہانیوں  میں  سننے اور پڑھنے والوں  کو ایسی دنیا اور ایسی باتیں  نظر آتی ہیں  جن تک عقل کی رسائی ممکن نہیں  ہے۔ یہ باتیں  اور واقعات ایسے مقامات و ممالک سے تعلق رکھتے ہیں  جو شاید اس دنیا میں  ہیں  ہی نہیں ۔ داستان گوئی کے متعلق مرزا اسداللہ خاں  غالبؔ کا خیال ہے کہ ’’داستان طرازی من جملہ فنونِ سخن ہے‘‘ یہ سچ ہے کہ داستانیں  دل بہلانے کے لیے اچھا فن ہیں ۔ گیان چند جین کے مطابق داستان کے لغوی معنی قصہ، کہانی اور افسانہ کے ہیں ۔ خواہ وہ منظوم ہو یا منثور جس کا تعلق زمانۂ گزشتہ سے ضرور ہو اور جس میں  فطری اور حقیقی زندگی بھی ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ غیرفطری اکتسابی اور فوق العادت شاذ و نادر فوق العجائب بھی ہوسکتی ہے۔ اس طرح افسانوں  کی قسموں  میں  داستان ایک مخصوص صنف کا نام ہے۔ داستان کے واقعات بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک بزمیہ دوسرے رزمیہ۔ بزمیہ بیانات عشق و محبت، صلح و آتشی دوستی، ہمدردی پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ رزمیہ میں  دشمنوں  سے جنگیں  ، عیاریاں ، فریب کاریاں  شامل ہوتی ہیں  جس کو زیادہ تر مذہبی تبلیغ سے تحریک ملتی ہے ۔ داستان کا انجام ہمیشہ طربیہ ہوتا ہے اور داستان کی طوالت مدت تک سامعین کو اختتام کی مشتاق رکھتی ہے ۔ داستان گوئی کی اصطلاح میں  اسے داستان روکنا کہتے ہیں ۔ داستان میں  اخلاقی تعلیم یا مذہبی عناصر بھی موجود ہوتے ہیں ۔ دیو، بھوت، جن ، پری ایک ایسی آتشیں  خلقت ہے جو عموماً مشاہدے میں  نہیں  آتی لیکن تحریر و تقریر میں  اس کا وجود ملتا ہے گویا آنکھوں  سے نہیں  دیکھا لیکن کانوں  سے ضرور سنا ہے۔

داستان زندگی اور اس کی حقیقتوں  سے فرار کا نام ہے۔ انسان کی جن خواہشات و تمنائوں  کی تکمیل جب حقیقتاً نہیں  ہوپاتی تو ان کو پورا کرنے کے لیے تخیل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ البتہ داستان کی اصل اہم ترین غایت تفریح طبع سے تعلق رکھتی ہے اور داستانوں  کی سبق آموز کی حیثیت ثانوی درجہ پر آتی ہے۔

رجب علی بیگ سرور جامع الکمالات شخصیت کے مالک تھے۔ غالباً٨٦۔١٧٨٥ئ میں  سرور کی پیدائش لکھنؤ میں  ہوئی اور ١٨٦٩ئ میں  ان کا انتقال ہوا۔ ان کے باپ کا نام مرزا اصغر علی بیگ تھا۔ سرور کی ابتدائی تعلیم  و نشوونما لکھنؤ میں  ہوئی۔ انھوں  نے عربی و فارسی میں  اعلیٰ قابلیت حاصل کی۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور خطاطوں  میں  شمار کیے جاتے تھے ۔ اس فن میں  انھوں  نے حافظ ابراہیم کی شاگردی کی تھی۔ سرور فنِ موسیقی سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے تھے۔ فنِ شاعری میں  ان کے استاد آغا نوازشؔ حسین خاں  عرف مرزا خانی لکھنوی تھے جو میرسوزؔ کے شاگردوں  میں  سے تھے۔

سرور کی ادبی زندگی کا آغاز لکھنؤ کے اس عہد سے تعلق رکھتا ہے جب وہاں  خودمختار بادشاہت قائم ہوچکی تھی۔ زبان وادب ، معاشرت اور طرزِ فکر نے دہلی سے آزادی حاصل کرلی تھی۔ اس لسانی و ادبی خودمختاری نے دہلی اور لکھنؤ کے درمیانی فرق کو زیادہ واضح اور نمایاں  کردیا تھا۔ اس لحاظ سے سرور نئے لکھنوی طرزِ فکر کے پہلے نمائندہ تھے جنھوں  نے ایک مخصوص اسلوب پیش کرکے دہلی اور لکھنوی تفریق کو فروغ دیا۔ سرور نے فسانۂ عجائب کے دیباچہ میں  میرامنؔ اور دہلی کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس نے اعلانِ جنگ کا کام کیا۔ یہ اختلافات  نواب شجاع الدولہ کے زمانے سے شروع ہوچکے تھے اور جب انگریزوں  کی شہ پر نواب غازی الدین حیدر نے بادشاہت کا اعلان تو لکھنؤ کو دہلی سے مکمل آزادی حاصل ہوئی ایسے میں  یہ اختلافات تہذیبی اور ادبی سطح پر شدت سے ظاہر ہونے لگے  جوسرورؔ کی نثر میں  ڈھل کر نمایاں  ہوئے جس میں  آرائش و زیبائش کے وسیلے سے اس معاشرے کے انداز و اطوار کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے سرور دبستانِ لکھنؤ کے مخصوص اسلوب کے نمائندہ ٹھہرے۔ ان کی طبع زاد داستان ’’فسانۂ عجائب‘‘ ایک خاص اسلوب کا نقشِ اول قرار پائی اوراس طرح ایک نئی روایت کی داغ بیل پڑی۔

دہلی والوں  کو اپنی زبان اور روایت پر بہت فخر تھا اور سندبھی دہلی سے لی جاتی ہے، کیوں  کہ اردو شاہی درباروں  کی سرپرستی میں  پروان چڑھی تھی اس لیے یہاں  کی لسانی برتری مسلم تھی۔ لیکن سرور لکھنؤ کے پہلے ادیب اور شاعر ہیں  جنھوں  نے دہلی کے اہل زبان کی لسانی برتری پر چوٹ کی ہے۔

سرور کو١٨٢٤ئ کو غازی الدین حیدر کے حکم سے کسی جرم کی سزا کے تحت لکھنؤ سے جلاوطن کردیا گیا۔ اس دوران سرورؔ کافی عرصہ کانپور میں  رہے۔  ان کے استاد نوازشؔ بھی ان ہی مشکوک حالات میں  سرور کے ساتھ تھے اور یہیں  پر سرور نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’فسانۂ عجائب‘‘  تقریباً ١٨٢٥ئ  میں  مکمل کی اور اپنے اُستاد کو دکھائی ۔ اس داستان میں  انھوں  نے نوازشؔ کے بہت سے اشعار  بھی شامل کیے۔

سرور کی فسانۂ عجائب ١٨٤٣ئ  میں  شائع ہوئی۔ اس وقت تک میرامنؔ دہلوی کی کتاب ’’باغ و بہار‘‘ شہرت حاصل کرچکی تھی۔ دونوں  داستانی سلسلے کی کتابیں  ہیں  لیکن دونوں  کتابوں  کی زبانیں  اور اسلوب مختلف ہے۔ سرور نے ’’فسانۂ عجائب‘‘ میں  اس زمانے کے لکھنؤ کی زبان استعمال کی ہے جس میں  مشکل پسندی، پیچیدگی، مرصع کاری، قافیہ پیمائی، رعایتِ لفظی، مقفٰی اور مسجع عبارت آرائی ہے جس پر فارسی طرزِ تحریر کا اثر نمایاں  ہے۔ لیکن سادگی، فصاحت، محاورے اور روز مرہ اہلِ زبان کی جو دلکشی  اورلطف ’باغ و بہار‘ میں  ہے وہ ’فسانۂ عجائب‘ میں  عنقا ہے۔

’فسانۂ عجائب‘ کے علاوہ سرور کی تصانیف میں  کچھ چھوٹے چھوٹے قصے ہیں  جن میں  سے ایک’شرر عشق‘  ہے جو نواب سکندر بیگم والیٔ بھوپال کے حکم سے ١٨٥١ئ  میں  لکھا اور١٨٥٢ئ  میں  ’ شگوفۂ محبت‘۔١٨٥٩ئ میں  سرور بنارس گئے وہاں  انھوں  نے ’گلزارِ سرور‘، ’شبستانِ سرور‘ اور دیگر نظم و نثر کی چھوٹی چھوٹی کتابیں  تصنیف کیں ۔

سرور کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی تصنیف ’فسانۂ عجائب‘ ہے۔ یوں  تو اس داستان کے واقعات میں  کوئی جدت نہیں  ہے۔ طرزِ نگارش بھی اس زمانے کی مروج فارسی کی تقلید میں  تصنع اور تکلف سے پُر مقفٰی اور مسجع ہے۔ سادہ عبارت کہنا اس زمانے میں  قابلیت سے عاری تصور کیا جاتا تھا۔لہٰذا اس روایت کے تحت سرور نے پرتکلف عبارت کا اہتمام کیا جو بہت پسند کی گئی۔ ’’فسانۂ عجائب‘‘ ایک یہ ایسا فرضی قصہ ہے جس میں  طلسم، دیو، جادوسحر، جادوگروں  اور دیوئوں  سے لڑائی۔ سفر کی عجیب و غریب مسافتیں  غرض مافوق الفطرت  دنیا جو داستانوں  کا طرہ امتیاز ہے اس میں  موجود ہے۔ اور پس منظر میں  لکھنؤ کے  اس دور کی زندگی نمایاں  ہے، جس دور میں  یہ داستان لکھی گئی۔ لیکن یہ قصے آج کے سائنسی اور حقیقت پسند دور میں  اپنی قدروقیمت کھوچکے ہیں ۔ آج کا انسان ان میں  وہ دلچسپی محسوس نہیں  کرتا جو اس دور میں  ان داستانوں  کو حاصل تھی البتہ جہاں  تک زبان کا تعلق ہے، اس کی زبان اور عبارت کی دلکشی کو لوگ اب بھی  پسند کرتے ہیں  حالاں  کہ عبارت پُرتکلف ہے لیکن واقعات کی فراوانی نہیں  ہے۔ اس لیے اس کا شمار سب سے مختصر داستانوں  میں  ہوتا ہے۔ بہت سے جملے نظم سے قریب ہونے کے سبب دلچسپ اور ادبی مرصع کاری کے بہتر نمونے ہیں جو نثر میں  نظم کا لطف پیدا کردیتے ہیں ۔ البتہ قصہ وہی پرانے زمانے کا ہے۔

’فسانۂ عجائب‘ کا مطالعہ اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے دیباچہ میں  اس زمانے کے لکھنؤ شہرکی تمام زندگی سمٹ کر یک جاں  ہوگئی ہے وہاں  کی سوسائٹی اور طرزِ معاشرت ، امرائ و رئوسا کی وضعداری ، ان کے پُرتکلف جلسوں ، شہر کے رسم و رواج، کھیل تماشوں ، مختلف پیشوں ، اہلِ کمال کے حالات، بازاروں  کی چہل پہل، سودافروشوں  کی آوازیں  جیسے دلچسپ مناظر کی جیتی جاگتی تصویریں  اس میں  نظر آتی ہیں ۔ البتہ سرشار کی طرح سرور کے یہاں  سوسائٹی کی مرقع نگاری اور کردار نگاری نہیں  ہے۔ سرور نے ان چیزوں  پر ایک سرسری نگاہ ڈالی ہے ۔ انھوں  نے اس سلسلے میں  جزئیات و تفصیل سے کام نہیں  لیا ہے۔ سرور نے آدمیوں  کا حال نہیں  لکھا ہے صرف چیزوں  کا مرقع پیش کیا ہے۔ یعنی حلوائی، جوہری، بنیا، بقال، سب سامان لیے تو بیٹھے ہیں  لیکن وہ کوئی قول و فعل کرتے نظر نہیں  آتے بلکہ جامد تصویروں  کی طرح ہیں ۔ البتہ بازار اور سیرگاہیں  جو، اب باقی نہیں  ہیں ۔ لیکن اس کتاب کے مطالعہ سے ہم ان جگہوں  کی خوب سیرکرتے ہیں ۔ اس میں  شک نہیں  کہ قدیم طرز کی نثر میں  سرور کا مرتبہ بہت بلند ہے اور ان کی طرزِ خاص انھیں  سے منسوب ہے۔ سرور نے اپنے مخصوص رنگ کو بڑی مہارت سے استعمال کیا ہے کہ ان کی تصنیف لکھنؤ کی سوسائٹی کی مرقع کشی میں  اہمیت پائی گئی ہے۔ سرور شاعر بھی تھے لیکن نثر کے سامنے ان کی شاعری فروغ نہ پاسکی۔ سرور نے جتنی تشبیہات فسانۂ عجائب میں  پیش کی ہیں  وہ کسی اور تصنیف میں  نہیں  ملتیں ۔ سرور کو چوں  کہ فارسی اور عربی میں  اچھی استعداد حاصل تھی اس لیے فارسی و عربی کے صرف و نحو، تشبیہ و استعارات اور اصطلاحات نے ان کی نثر کو بہت ہی خوبصورت بنادیا ہے۔ حالاں  کہ زیبائش کی زیادتی کی بناپر کہیں  کہیں  بھدا پن پیدا ہوگیا ہے۔ جہاں  تک کردار نگاری کا تعلق ہے تو بادشاہ، بیگمات، شہزادی، فقیر، جادوگر اور طوطا وغیرہ کرداروں  کو سرور نے خوبی سے پیش کیا ہے۔ داستان کا بنیادی کردار طوطا ہے جس کے گرد ساری کہانی گھومتی ہے۔ اس کے علاوہ ہیرو جانِ عالم ہیروئن انجمن آرا ملکہ مہر نگار مرکزی کردار ہیں ۔ داستان کا ایک حصہ جس کا عنوان فسانہ شاہِ یمن ہے نصاب میں  شامل کیا گیا ہے۔ آئیے ایک نظر اس پر ڈالتے ہیں ۔ اس حصہ میں  سرور نے بندر کی زبان سے دنیا کی بے ثباتی کادرس دیا ہے اور اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ اچھی قسمت ہر جگہ اپنے لیے راہیں  ہموار کرلیتی ہے۔

بندر قصہ یوں  شروع کرتا ہے کہ نیک دل بادشاہِ یمن ایک سائل کی خواہش کا پاس کرتے ہوئے اسے تین دن کے لیے تختِ شاہی پر بیٹھنے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن وہ دھوکے باز ،بادشاہ کی نیکی اور نرمی کا یہ صلہ دیتا ہے کہ اس کی سلطنت پر قبضہ جمالیتا ہے اور بادشاہ لباسِ فقیری پہن کر فقیروں  کی کیفیت اور فاقے کی لذت سے دوچار ہونے کے لیے اپنے دونوں  بیٹوں  اور بیوی کو لے کر اس شہر کو چھوڑ کسی اور شہر کا رخ کرتا ہے۔ اور سفر کے مصائب اٹھاتا ہوا ایک شہر کے مسافرخانے میں  قیام کرتا ہے کہ وہاں  ایک سوداگر سیر کرتا ہوا آ نکلتا ہے اور شہزادی کی خوبصورتی پر فریفتہ ہوکر بادشاہ سے بہانہ بناکرکہ اس کی بیوی دردِ زہ میں  مبتلا ہے اس کے لیے ایک دائی کی ضرورت ہے جو یہاں  نہیں  ملتی اس لیے شہزادی کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے التجا کرتا ہے اور نیک دل بادشاہ اس کی مکاری اور فریب کو نہ سمجھ سکا اور شہزادی کو اس کے ساتھ بھیج دیتا ہے۔ اور جب شہزادی واپس نہیں  آتی تو بادشاہ  شہزادی کی تلاش میں  اپنے دونوں  بیٹوں  کو بھی کھوبیٹھتا ہے  اس طرح بیوی اور بچوں  کے غم سے نڈھال بادشاہ جیسے تیسے ایک شہر کے قریب پہنچتا ہے ۔ وہاں  اس کی قسمت رنگ لاتی ہے اور اس کو وہاں  کے شہری اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں ، کیوں  کہ اس شہر کا بادشاہ مرگیا تھا اور وہاں  کے دستور کے مطابق جس شخص کے سر پر باز بیٹھتاجاتا تھا اسے وہ اپنا بادشاہ چن لیتے تھے ۔ یوں  باز کے سر پر بیٹھنے پر یہ پریشان حال بادشاہ جس کی سلطنت ایک دھوکے باز نے ہڑپ لی تھی یہاں  کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ لیکن بادشاہت کی اسے کوئی ہوس نہیں  تھی وہ دن رات اپنے بیٹوں  اور بیوی کو یاد کرکے غم زدہ اور افسردہ رہتا ہے۔ آخرکار اس کی قسمت کی بلندی سے  اس کی بیوی اور بیٹے واپس مل جاتے ہیں  اور ان کی کھوئی ہوئی سلطنت بھی خدا کے حکم سے اسے واپس مل جاتی ہے۔ اور بندر اس کہانی کا لب لباب یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ خدا کی محبت میں  سرشار ہوتے ہیں  انھیں  دنیا اور آخرت میں  کسی چیز کی کمی نہیں  ہوتی۔ اگر خدا پر بھروسہ کرکے انسان اس کا صادق و عارف بندہ بن جاتا ہے تو بادشاہ کی طرح ایک سلطنت کے عوض دوسلطنت پاتا ہے اور جو لالچ کرتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں  میں  سزا پاتا ہے اور یوں  کہانی اختتام پذیر ہوتی ہے۔

اس قصہ کو سرور نے اپنی جادوبیانی سے کافی دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس کے ساتھ داستان کی زبان ماحول ، پلاٹ ، کردار، واقعات اور منظرنگاری سب ہی عمدہ ہیں ۔ اپنی انہی خوبیوں  کے باعث ’’فسانۂ عجائب‘‘ آج بھی مقبولیت کی حامل ہے۔