Urdu-B

15 اقسامِ شاعری

 رئیسہ پروین

اقسامِ شاعری

اردو میں  ہر شعری اصناف اپنی مخصوص ہیئت کی بنا پر پہچانی جاتی ہے اور چند اپنے مخصوص موضوع کی وجہ سے ایک منفرد شناخت رکھتی ہے ۔موضوع کی بنا پر شناخت رکھنے والی اصناف میں  مرثیہ، شہر آشوب ،واسوخت وغیرہ ہےں  وہ اصنافِ سخن جن کی شناخت موضوع اور ہیئت دونوں  سے ہوتی ہے ان کو ہم موضوع اور ہیٔتی اصناف کا نام دیں  گے جن میں  مثنوی ،قصیدہ شامل ہیں  اور وہ شعری اصناف جو صرف اپنی مخصوص ہیئت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہےں  انہیں  ہیٔتی اصناف کہتے ہیں  جن میں  غزل ، رباعی شامل ہیں  وہ اصناف جنہیں  ہم موضوع کی وجہ سے پہنچانتے ہیں  انہیں  موضوع اصناف کا نام دیں  گے۔ شعری اصناف کی ایک قسم وہ بھی ہے جو نہ موضوع پر منحصر ہے اور نہ ہیئت پر بلکہ وہ مخصوص تہذیبی و تمدنی مزاج کی وجہ سے ایک صنف کا درجہ رکھتی ہے وہ ہے نظم اور گیت ،اس کے علاوہ دو اصناف شعر ایسی بھی ہیں  جو منفرد ہونے کے علاوہ دیگر اصناف کے لیے بھی بطور ہیئت استعمال ہوتی رہی ہیں  جن میں  غزل اور مثنوی آجاتی ہےں  بہت سی نظمیں  غزل کی ہیئت میں  لکھی گئی ہیں  جس کی اچھی مثالیں  اقبالؔ کے کلام میں  مل جاتی ہیں  ۔اور مثنوی کی ہیئت میں  بھی نظمیں  اور ہجوئویں  لکھی گی ہیں ۔ اصنافِ شعر کی دوسری مروج ہیٔتوں  میں  ترکیب بند، ترجیع بند، مستزاد، قطعہ ،مسمط ہیں مسمط کوئی علیحدہ ہیئت نہیں  ہے بلکہ آٹھ مختلف ہیٔتوں  کا مجموعہ ہے۔ وہ آٹھ ہیٔتیں  ہیں  مثلث ،مربع، مخمس ،مسدس، مسبع، مثمن، متسع، معشر

شاعری کی موضوعی ہیٔتی اصناف کی تعریف

مثنوی :

مثنوی لفظ مثنّٰی سے ماخوذ ہے جس کے معنی دو ۔دو کے ہیں ۔ ادبی اصطلاح میں  مثنوی ایسی شعری اصناف کو کہتے ہیں  جس میں  ہر شعر کے دونوں  مصرعے ہم قافیہ ہو اور ہم وزن ہو اور ہر شعر کا قافیہ پچھلے شعر کے قافیہ سے مختلف ہو ۔یہ صنف اپنے مخصوص موضوعات ،مزاج اور مخصوص ہیئت کی بنا پرپہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسے دوسری اصناف کے لیے بھی اپنایا جاسکتا ہے اس کا حقیقی مزاج داستانی ہے یعنی مثنوی میں  عشقیہ داستانوں  کا بیان ہوتا ہے۔ اس طرح مثنوی ایک طرح کی منظوم داستان ہوتی ہے۔ وہ داستان جو عشق کے جذبات و واقعات پر مبنی ہو اپنی اسی صفت کی وجہ سے مثنوی بیانیہ شاعری کی معراج تصور کی جاتی ہے اس لحاظ سے اردو زبان میں  مثنوی ایک مقبول و معروف صنف سخن کی حیثیت رکھتی ہے اس کی مقبولیت کے پیشِ نظرپچھلے زمانے میں  بہت سی عمدہ مثنویاں  لکھی گئیں  جو اردو شعرو ادب کا مایۂ ناز سرمایہ ہیں  ۔ان میں  میر حسن دہلوی کی ’’سحرالبیان‘‘ دیا شنکر نسیمؔ کی ’’گلزارِ نسیم‘‘ کو کافی شہرت حاصل ہوئی۔ مثنوی سحرالبیان سے بطورنمونہ اشعار ملاحظہ کیجئے۔

مرو تم، پری پر وہ تم پر مرے

بس اب تم زرا مجھ سے بیٹھو پرے

میں  اس طرح کا دل لگاتی نہیں 

;یہ شرکت توبندی کو بھاتی نہیں 

SOHaSTXاردو اور فارسی میں  مثنوی کی ہیئت کے لیے آٹھ بحورمروج ہیں  لیکن موجودہ زمانے میں  بعض شعرائ نے دوسری بحورمیں  بھی مثنویاں  لکھی ہیں  جن میں  نمایاں  نام حفیظ جالندھری کا ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ ہے جو بحر ہزج مثمن سالم میں  لکھی گئی ہے اور جوش ملیح آبادی کی طویل نظم ’’جنگل کی شہزادی ‘‘مثنوی کی ہیئت میں  لکھی گئی ہے۔

قصیدہ :

قصیدے کی پہچان بھی اس کے موضوع اور ہیئت سے کی جاتی ہے۔ اگر ان دونوں  خصوصیات میں  سے ایک کا بھی فقدان ہو تو یہ صنف اپنی پہچان کھو بیٹھتی ہے ۔قصیدے کی اہمیت اس لیے مسلمہ ہے کہ غزل جیسی مقبول و معروف صنف سخن اسی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے اس لیے قصیدے کی ہیئت بڑی حد تک غزل کی ہیئت سے ملتی ہے ۔

قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ’’گاڑھا مغز‘‘ کے ہیں ۔ یہ صنف اپنے اسی معنوی جوہر پر پوری اترتی ہے کیونکہ اس میں  نادر و بلند اور پر شکوہ مضامین کا بیان ہوتاہے۔ اس لئے قصیدے کو شعری اصناف میں  وہی درجہ حاصل ہے جو انسانی جسم میں  مغز کو حاصل ہے ۔قصیدہ لفظ ’’قصد‘‘ سے مشتق ہے شاعر جب کسی کی مدح یا تعریف کرتا ہے تو اس میں  ا س کا ارادہ یا قصد شامل ہوتا ہے ۔قصیدے میں  نظم کی طرح خیالات و مضامین میں  ربط و تسلسل پایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ موضوع کے لحاظ سے قصیدے کا کوئی نہ کوئی عنوان بھی ہوتا ہے ۔ موضوع کے لحاظ سے بھی قصیدے کی تقسیم کی ہے۔اس کے علاوہ قصیدے کو قافےے کے آخری حرف کی مناسبت سے مخصوص نام بھی دے دیا جاتا ہے ۔مثلاً قصیدۂ لامےہ، کافیہ ،میمیہ وغیرہ ۔ مثلا   ؎

اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں  سے عمل

تیغ آردی نے کیا ملک خزاں  مستاصل

یہ قصیدہ لامیہ ہے کیونکہ اس کے قافیہ کا آخری حرف ’لام‘ ہے ۔

موضوع کے لحاظ سے قصیدے کو چار حصوں  میں  تقسیم کیا گیا ہے ۔

\t١۔\tمدحیہ \tایسا قصیدہ جس میں  کسی کی مدح یا تعریف بیان کی گئی ہو ۔

\t٢۔\tہجویہ \tایسا قصیدہ جس میں  کسی شخص یا مصائب زمانہ کی برائی بیان کی گئی ہو ۔

\t٣۔\tوعظیہ\t جس قصیدے میں  پندو نصائح کے مضامین بیان کئے جائیں  اسے وعظیہ قصیدہ کہتے ہیں ۔

\t٤۔\tبیانیہ \tجس قصیدے میں  مختلف النوع کیفیات کے مضامین پیش کیے جائیں  ۔وہ بیانیہ کہلاتا ہے۔

قصیدے کی دو قسمیں  ہیں  تمہید یہ ،خطابیہ ۔

تمہیدی میں  تشبیب ،گریز ،مدح و دعا جیسے عناصر ترکیبی ہوتے ہیں ۔

اور خطابیہ میں  تشبیب و گریز کو استعمال نہیں  کیا جاتا بلکہ ممدوح کی تعریف سے قصیدہ شروع کر دیا جاتا ہے ۔

قصیدے کے اجزائے ترکیبی اس طرح ہیں :

تشبیب، گریز ،مدح ،عرضِ مطلب یا مدعااور دعا۔

شاعری کی ہیٔتی اصناف کی تعریف


غزل

غزل کے لغوی معنی ایسا کلام جس میں  عورتوں  کے حسن و عشق کا بیان ہو۔ عربی میں  غزل کا مطلب عورتوں  سے باتیں  کرنا ہوتاہے ۔ادبی اصطلاح میں  غزل نظم کی وہ صنفِ سخن ہے جس میں عشق ومحبت ،حسن و جمال ،گل و بلبل کے تذکرے، محبوب کے خدوخال کی تعریف اس کے جو روستم ،ہجرو فراق کی تڑپ و کرب و اضطراب اور محبوب کے وصال کی آرزو جنون و عشرت ،خزاں  و بہار، یاس و امید ،شادی و غم کا ذکر ہو۔ لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ غزل کے مضامین میں  بھی اضافے اور تبدیلیاں  رو نما ہوتی رہی ہیں  او رہجروصال کی داستان کے ساتھ فلسفہ ،تصوف، سیاست و حیاتِ انسانی مختلف مسائل، دقیق خیالات او رسنجیدہ مضامین بھی غزلوں  میں  بیان ہونے لگے ہیں ۔

غزل کا ہر شعر دوسرے شعر سے معنی و موضوع کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے یعنی ایک شعر کو دوسرے شعر سے کوئی معنوی مناسبت نہیں ہوتی اگر شاعر غزل میں  اپنے موضوع کے بیان اور خیالات کو ظاہر کرنے کے لیے ایک سے زیادہ اشعار کا استعمال کرے تو یہ اشعار قطعہ بند اشعار کہلاتے ہیں ۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں  جس کے دونوں  مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ اگر غزل کا دوسرا شعر بھی ہم قافیہ ہو تو اسے حسنِ مطلع یا مطلع ثانی کہا جاتا ہے ۔مثلاً غالبؔ کے کلام سے اشعار ملاحظہ کیجئے   ؎

ملتی ہے خوے یار سے نار، التہاب میں

کافر ہوں ، گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں 

کب سے ہوں  ،کیا بتائوں  جہانِ خراب میں

شبہائے ہجر کو بھی رکھوں  گر حساب میں 

غزل میں  ردیف کا استعمال بھی ہوتا ہے لیکن یہ غزل کی ہیئت کا بنیادی رکن نہیں ہے اس لیے کہ ردیف کے بغیر بھی غزلیں  کہی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی بے مطلع غزلیں  بھی کہی گئی ہیں  مطلع کے بعد اشعار میں  پہلا مصرعہ قافیہ کا پابند نہیں  ہوتا ۔لیکن سارے مصرعے ثانی ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں  جس میں  شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے ۔اس کے علاوہ غزل کے اشعار میں  خیال و موضوع کے ربط و تسلسل کی قید نہیں  ہوتی یعنی اگر ایک شعر عشق کے جذبات کی عکاسی کرتاہے تو دوسراشعر سیاسی نکتۂ نظر کو پیش کرسکتا ہے تیسرا فلسفہ پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ یعنی غزل کو ہم موضوع میں  قید نہیں  کر سکتے ایک ہی غزل میں  حسن و عشق کا بیان ۔دنیا کی بے ثباتی، سماجی مسائل ،فلسفیانہ نکات و سیاسی سرگرمیاں  غرض ہر قسم کے خیالات کو پیش کرنے کی آزادی ہے ۔غزل ایک شعر کے دو مصرعوں  میں  ہی ایک مکمل اور بڑے سے بڑے خیال کو پیش کرنے کی قوت رکھتی ہے ۔اس لیے غزل دریا کو کوزہ میں بند کرنے کا عمل قرار دیا گیا ہے جس میں  شاعر اپنی بات کو ادا کرنے کے لیے علامتوں  ،کنایوں  ،استعارات اور تشبیہات صنائع بدائع کا سہارا لیتا ہے ۔

رُباعی

رباعی ایک مختصر سی صنف سخن ہے۔ جس میں  عام طور پر فلسفیانہ ،مفکرانہ اخلاقی اور کبھی کبھی عشقیہ مضامین کا بیان ہوتا ہے یہ چار مصرعوں  پر مشتمل ہوتی ہے جو غزل کے دو شعروں  سے مشابہ ہوتی ہے ۔

رباعی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چار چار ہیں ۔ اصطلاحاً اس سے وہ شعری ہیئت مراد ہے جو چار مصرعوں  پر مبنی ہو اور فکرو خیال کے لحاظ سے مکمل ہو۔  رباعی کے چاروں  مصرعوں  میں  خیال مربوط اور مسلسل ہوتا ہے اور آخری مصرعے میں  خیال کی تکمیل ہوتی ہے ۔اس کے پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں  تیسرا مصرعہ بے قافیہ ہوتا ہے ۔رباعی کے اوزان مثنوی کی طرح مخصوص ہیں  اس کے چوبیس اوزان ہیں ۔ چنانچہ رباعی مقررہ اوزان کی پابند ہونی چاہئے۔

مرثیہ :

مرثیہ عربی کا لفظ ،رثیٰ سے مشتق ہے رثیٰ کے معنی مردے پر رونا اور آہ وزاری کرنا ہے ۔یہ صنف عربی شاعر میں  رائج تھی جس میں  اپنے عزیزوں  اور بزرگوں  کے انتقال پر رنج والم کے جذبات سے پر اشعار کہے جاتے ہیں ،انہیں  مرثیہ کہا جاتاتھا۔ مرثیہ اردومیں  موضوعاتی لحاظ سے واقعات کر بلا سے مخصوص ہوگیاہے۔ یہ اسی مفہوم میں  اردو میں  رائج ہے لیکن اردو میں  ایسے مرثیوں  کی بھی کمی نہیں  جو مختلف اشخاص کی اموات پر اظہار غم کے لیے لکھے گئے ہیں ۔ عام طور پر مرثیہ مسدس کی ہیئت میں  لکھے جاتے ہیں ۔ مرثیہ نویسی میں  مشہور نام میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے ہیں  ۔مرثیہ کے اجزائے ترکیبی میں  چہرہ ، سراپا، رخصت ،آمد، رجز ،رزم ، شہادت بین مرثیہ کے عناصر ترکیبی ہیں  جو میر ضمیرؔ نے قائم کیے تھے ۔لیکن تما م مرثیوں  میں  ان کی پابندیاں  لازماً نہیں  ملتی ۔

 

نوحہ :

نوحہ وہ مرثیہ سلام ہوتا ہے جس میں  بین کے اشعار زیادہ ہوتے ہیں  ۔کیونکہ یہ لے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور اس کے بعد ماتم کیا جاتا ہے اس میں  بھی زیادہ تر واقعات کر بلا کا بیان ہوتا ہے نوحہ زیادہ تر مستزادکی ہیئت میں  لکھے گئے ہیں  لیکن اس میں  ہیئت کی کوئی قید نہیں  ہے۔

سلام :

سلام قصیدے یا غزل کی شکل میں  لکھا جاتا ہے ۔سلام کے مطلع میں  اکثر لفظ سلام یا سلامی لایا جاتا ہے مثلاً

 سلام اس پرکہ جس نے بادشاہی میں  فقیری کی

 اس میں  مرثیہ کی طرح واقعات کر بلا کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں  اور ساتھ میں  مختلف اخلاقی مضامین بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔ اور وہ نعتیہ نظم بھی ہوتی ہے جس میں  حضورؐ کی تعریف کی جاتی ہے اور لفظ سلام استعمال ہوتا ہے ۔

حمد :

حمد میں  خدا تعالیٰ کی تعریف بیان کی جاتی ہے ۔یہ نظم یا قصیدے کی شکل میں  بھی ہوسکتے ہیں  ۔اکثر مثنویاں  حمد کے اشعار سے شروع ہوتی ہےں ۔ اور یہ کسی نظم کا ابتدائی حصہ بھی ہوسکتے ہیں  اس کے علاوہ الگ سے حمد بھی لکھی جاتی ہے ۔

نعت :

نعت میں  حضورؐ کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں  ایسے اشعار عموماً کسی نظم کے شروع میں  لائے جاتے ہیں  نعت علیحدہ بھی لکھی جاتی ہے ۔

منقبت:

اس میں  صحابہ اکرام حضرت علیؓ یا ائمہ اکرام صوفیا کی تعریف کی جاتی ہے۔یہ بھی کسی نظم کے حصے کے طور پر یا قصیدے کی شکل میں  لکھے جاتے ہیں ۔

مناجات :

اس میں  شاعر خدا کی صنّاعی بیان کرتا ہے ۔اور دُعا گو ہوتا ہے ۔یہ اشعار نظم کے ایک حصے کے طور پر لائے جاتے ہیں ۔

ساقی نامہ :

یہ نظم مثنوی کی ہیئت میں  لکھی جاتی ہے اس میں  شاعر ساقی سے خطاب کرکے موسم بہار یا شراب نوشی کی باتیں  کرتاہے اور اس سلسلے میں  وہ مفکرانہ ،فلسفیانہ اوراخلاق مضامین قلم بند کرتا ہے اقبالؔ کی نظم ساقی نامہ اس کی بہترین مثال ہے ۔

ہجو :

ہجو قصیدے کی ہی ایک قسم ہے جس میں  کسی شخص یا مصائب زمانے کی برائی بیان کی جاتی ہے۔ سوداؔ کی مشہور ہجو ’’تضحیک روز گار‘‘ اس کی عمدہ مثال ہے ۔سوداؔ نے اور بہت سی ہجویات لکھی ہیں ۔

واسوخت :

واسوخت میں  غزل کی روایتی عاشقی کی خود سپردگی اور نیاز مندی کے بجائے خودداری کا اظہار ہوتا ہے یعنی جس میں  عاشق اپنے معشوق کو جلی کٹی سناتا ہے ۔جس میں  عاشق معشوق سے بے پروائی ،بے التفاقی اور بےزاری برتتا ہے ۔اس صنف میں  ۔جرأت اظہار اور صاف گوئی سے عاشق کی قدر و قیمت میں  اضافہ ہوتا ہے ۔و اسوخت میں  عاشق محبوب کو کھلے لفظوں  میں  یہ بات بتانا چاہتا ہے کہ تمہاری جو قدرو منزلت ہے وہ ہمارے عشق کی بدولت ہی ہے ۔اقبالؔ کا شعر   ؎

 تو جو ہر جائی ہے اپنا بھی یہی طور سہی

تو نہیں  اور سہی اور نہیں  اور سہی

SOHÕSOHو اسوخت ابتدا میں  آٹھ مصرعے کی ہیئت میں  لکھے جاتے تھے۔ ہر بند کے اولین چھ مصرعے ہم قافیہ ہوتے تھے اور ہیئت کا شعر کسی اور قافیہ میں  ہوتا تھا ۔لیکن میرؔ نے اس ہیئت سے انحراف کرتے ہوئے و اسوخت کے لیے مسدس (چھ مصرعے) کی ہیئت اختیا رکی۔

شہر آشوب:

اس صنفِ سخن میں  کسی شہر، ملک ،خطے کی بربادیوں  تباہ کاریوں  کا ذکر نہایت درد مندی کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ یہ بربادی اور تباہ کاری کسی عہد معاشرے اور جماعت کی ہوسکتی ہے۔اس کے موضوعات بے بسی، پستی، زوال ،مفلوک الحالی وغیرہ ہیں  شہر آشوب کی پہچان اس کے مخصوص موضوع کی بنا پر ہوتی ہے ۔شہر آشوب ،غزلیہ ،مثنوی ،مخمس اور مسدس کی ہیٔتوں  میں  لکھے گئے ہیں  اس سلسلے میں  نواب مرزا داغؔ کا مشہور شہر آشوب کا ایک بند ملاحظہ کیجئے۔

فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا

;تمام پردۂ ناموس چاک کر ڈالا

?یکایک ایک جہاں  کو ہلاک کر ڈالا

غرض کہ لاکھ کا گھر اس نے خاک کر ڈالا

جلی ہیں  دھوپ میں  شکلیں  جو ماہتاب کی تھیں 

کھنچی ہیں  کانٹوں پہ جو پتیاں  گلاب کی تھیں 

نظم:

 غزل کی طرح نظم کی ہیئت مخصوص نہیں  ہے ۔غزل کے اشعار میں  باہمی تسلسل نہیں ہوتاہے لیکن نظم کے اشعار ایک دوسرے سے پیوست ہوتے ہیں ۔ نظم ایک نہایت بسیط و وسیع اصطلاح ہے ۔غزل کے علاوہ دوسری اصنافِ شعر مثلاً قصیدہ، مرثیہ ، واسوخت ،شہر آشوب ،اور مثنوی نظم ہی کی ایک شکل ہیں ۔ یعنی یہ تمام اصنافِ سخن فکرو خیال کے تسلسل اور ربط پر مبنی ہیں  لیکن چونکہ ہم نے ان اصناف کو ان کے ہیٔتی اور موضوعی حیثیت سے الگ الگ اصناف مانا ہے اس لیے یہ نظم کی حدود سے نکل جاتی ہےں ۔ نظم جو کہ نہ موضوعی صنف ہے نہ اس کی کوئی مخصوص ہیئت ہے یہ قدیم زمانے سے مختلف ہیتوں  میں  پیش کی جاتی رہی ہے۔ یہ صنف اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ سے لے کر عہد جدید کے شعرائ کے یہاں  کثرت سے ملتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں  اس صنف کی جلوہ گری ہے۔ الطاف حسین حالیؔ اور محمد حسین آزاد نے اسے استحکام بخشا۔ زندگی کا ہر واقعہ ،ہر واردات ،ہر رنگ اس کا موضوع ہوسکتا ہے ۔

جدید نظم نگاروں  کے یہاں  اس کی دو قسمیں  نظم معرا اور آزاد نظم ملتی ہیں  ۔چونکہ اس دور میں  نظم کی ہیئت میں  تبدیلیاں  رو نما ہوئی ہیں  اور نظمِ آزاد او رنظمِ معریٰ پر طبع آزمائی کی گئی ہے ۔

نظم معریٰ :  اردو میں  یہ ہیئت انگریزی سے منتقل ہوئی ہے انگریزی میں  اس کا نام بلینک ورس ہے ۔اردو میں  ابتدا میں  اسے نظمِ غیر مقفیٰ کا نام دیا گیا لیکن بعد میں  عبدالحلیم شررؔ نے بابائے اردو عبدالحق کے مشورے پر اس کے لیے نظم معریٰ کی اصطلاح رائج کی جو مقبول ہوئی۔ انگریزی میں  نظم کی یہ ہیئت آئمبک پینٹا میٹر بحر کے لیے مخصوص ہے لیکن اردو میں  اس بحر کا تتبع ممکن نہیں  ہے اس لیے صرف قافیہ کی آزادی کو ہی قبول کیاگیا ۔اس طرح اردو میں  معریٰ نظم ایسی شعری ہیئت ہے جس میں  ارکان کی تعداد برابر ہوتی ہے یعنی نظم کے تمام مصرعوں  کا وزن برابر ہوتا ہے لیکن قافیہ ردیف کی پابندی نہیں  ہوتی۔

اردو نظم کی اس ہیئت کے اولین تجربے محمد حسین آزادؔ ،اسماعیلؔ میرٹھی اور عبدالحلیم شررؔ کے یہا ں ملتے ہیں  اکثر ناقد عبدالحلیم شررؔ کو اردومیں  نظم معریٰ کا موجد قرار دیتے ہیں  لیکن حنیف کیفی نے محمد حسین آزادؔ کو اولیت دی ہے ۔محمد حسین آزاد کی نظم’ جغرافیہ طبعی کی پہیلی ‘ اور’ جذب دوری ‘کووہ اردو کی سب سے پہلی معریٰ نظمیں  تسلیم کرتے ہیں ،’ جغرافیہ طبعی کی پہیلی ‘کا ایک بند نمونے کے طور پر ملاحظہ کیجئے۔

ہنگامہ ہستی کو

گرغور سے دیکھو تم

ہر خشک و تر عالم

صنعت کے تلاطم میں 

جو خاک کا ذرّہ ہے

'یا پانی کا قطرہ ہے

 حکمت کا مرقع ہے

جس پر قلمِ قدرت

انداز سے ہے جاری

اور کرتا ہے گلکاری

ایک رنگ کے آتا ہے

سو رنگ دکھاتا ہے

SOHgETXآزاد نظم :   آزاد نظم میں  انگریزی سے اردو میں  منتقل ہوئی ہے انگریزی میں  اسے ’’فری ورس‘‘ کہا جاتا ہے اس لحاظ سے انگریزی اصطلاح کا لفظی ترجمہ آزاد نظم کے نام سے اردومیں  رائج ہے۔ اس شعری ہیئت کو اردو میں  بہت مقبولیت حاصل ہے ۔فری ورس ایسی نظم کو کہا جاتا ہے جو مختلف بحروں  کے امتزاج یا یکسر وزن سے آزاد ہوتی ہے جن میں  قافیہ ردیف کی پابندی نہیں  ہوتی اور وزن کی پابندی بھی نہیں  ہوتی اس اعتبار سے آزاد نظم ،نظم اور نثر کے بیچ کی چیز ہے ۔

اردو میں  آزاد نظم کو بیسویں  صدی کی چوتھی دہائی میں  بڑی تیزی سے فروغ حاصل ہوا ۔اس کے اوّلین علمبرداروں  میں  تصدق حسین خالدؔ، ن۔ م راشدؔ ،اور میراجیؔ کے نام اہمیت کے حامل ہیں ۔ ن ۔م راشد کی نظم ’’زمانہ خدا ہے‘‘سے چند اشعار نمونے کے طور پر ملاحظہ کیجئے۔

’’زمانہ خدا ہے ،اسے تم برامت کہو ،

مگر تم نہیں  دیکھتے ،زمانہ فقط ریسمانِ خیال

سُبک مایہ ،نازک طویل

جدائی کی ارزاں  سبیل!

ترکیب بند :

یہ ہیئت کے لحاظ سے غزل سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس میں  اولیں  چند اشعار غزل ہی کی طرح ہوتے ہیں  جن کی تعداد کم سے کم پانچ اورزیادہ سے زیادہ گیارہ ہونی چاہئے ان اشعار کے بعد ایک شعر جو اسی بحر میں  ہوتا ہے لیکن اس کا قافیہ اوپر کے شعروں  سے مختلف ہوتا ہے ۔ ا س طرح ایک بند تیار ہو جاتا ہے اسی ترتیب سے باقی تمام بند تشکیل پاتے ہیں ۔

ترجیع بند :

ترجیع بند کے لغوی معنی لوٹانا کے ہیں ۔ ترجیع بند، ترکیب بند سے ان معنوں  میں  مختلف ہے کہ ترکیب بند کے ہر بند کا ٹیپ کا شعر مختلف ہوتا ہے جبکہ ترجیع بند میں  پہلے بند میں  جو ٹیپ کا شعر آتا ہے وہی تمام بندوں  میں  دہرایا جاتا ہے ۔

مستزاد :

مستزاد کے لغوی معنی زیادہ کی گئی چیز کے ہیں  اور شعری اصطلاح میں  وہ الفاظ جو غزل، رباعی اور نظم وغیرہ کے مصرعوں  میں  بڑھادئےے جاتے ہیں ۔ مستزاد کے لیے کوئی بحر مقرر نہیں  ہے عموماً جس بحر میں  غزل یا نظم کہی جاتی ہے اس کے مصرعوں  پر اضافہ کرکے مستزاد فقرے لکھ دئےے جاتے ہیں  یہ مستزادی فقرے نظم یا غزل کے ہم قافیہ بھی ہوسکتے ہیں  یعنی جس غزل یا نظم کا جو قافیہ ہے،اسی قافیہ میں  بھی ہوسکتے ہیں ۔ اورنہیں  بھی ہوسکتے اس معاملے میں  کسی اصول کی پابندی نہیں  ہے اگر یہ الفاظ نہیں  بھی لکھے جائیں  تو بھی معنی کی تکمیل ان کے بغیر ہو جاتی ہے ۔مگر ان الفاظ کے اضافہ سے بات میں  وزن اور زور پیدا ہو جاتا ہے ۔مثلاً نمونے کے لیے اقبال کے کلام سے مستزاد ملاحظہ کیجئے۔

پانی ترے چشموں  کا تڑپتا ہوا سحاب

مرغانِ سحر تیری فضائوں  میں  ہیں  بے تاب

اے وادیٔ لولاب

اے وادئی لولاب ،یہ مصرعے مستزاد کہلائے گا ،یا ایک اور مستزا داقبالؔ کے کلام سے ملاحظہ کیجئے۔

رومی بدلے شامی بدلے بدلا ہندوستان

تو بھی اے فرزندِکہستاں  اپنی خودی پہچان

اپنی خودی پہچان او غافل افغان

اس شعر میں  آخری الفاظ ’’اوغافل افغان‘‘ مستزاد کہلائیں  گے اگر ان الفاظ کو اس جگہ سے نکال دیا جائے تب بھی معنی کی تکمیل ہو جاتی ہے۔

قطعہ :

قطعہ کے لغوی معنی ہیں  کاٹا ہوا۔ غزل میں  کبھی کبھی شاعر غزل کے درمیان دو تین اشعار ایسے لاتا ہے جس میں  کوئی بات کوئی جذبہ تسلسل سے بیان کیاجاتاہے یعنی ایسے اشعار جو مل کر کوئی مضمون بناتے ہیں  ان اشعار کے مجموعہ کو قطعہ کہتے ہیں ۔ گویا وہ باقی غزل سے کٹا ہوا ہوتا ہے ۔موجودہ زمانے میں  غزل سے الگ بھی قطعہ لکھے گئے ہیں ۔ دو یا تین مسلسل اشعار کے مجموعے کو قطعہ کہتے ہیں  جس غزل میں  کوئی قطعہ ہوتا ہے اسے قطعہ بند غزل کیا جاتا ہے مثلاً میرؔ کی غزل کے اشعار نمونے کے طور پر دیکھئے ۔

کل پائوں  ایک کاسۂ سر پر جو آگیا

یکسر وہ استخوان شکستوں  سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں  بھی کبھی کسو کا سر پر غرور تھا

SOHsSTXیعنی قطعہ ان اشعار کے مجموعہ کا نام ہے جن میں  ایک مسلسل بیان پایاجائے اور ایک شعر کا مطلب دوسرے شعر سے اس طور پر متعلق ہو کہ جب تک دوسرا شعرمعلوم نہ ہو،پہلے شعر کا مطلب واضح نہ ہوسکے۔ قطعہ کے تمام اشعار کادوسرا مصرعہ ہم قافیہ ہوتاہے ۔ قطعہ کے اشعار کی تعداد کم سے کم د و اور زیادہ سے زیادہ ایک سوستر بتائی گئی ہے۔

مسمط

مسمط عربی کا لفظ ہے یہ لفظ تسمیط سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی موتی پرونا، ہیں  شعری اصطلاح میں  اس نظم کو کہتے ہیں  جومختلف بندوں  پر مشتمل ہوتی ہے اس میں  ہر بند کے سارے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں  لیکن آخری مصرعہ ہم قافیہ نہیں  ہوتا۔ البتہ تمام بندوں  کے آخری مصرعوں  کا قافیہ پہلے بند کے آخری مصرعے کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔اس طرح ہر بند کا قافیہ الگ ہوگا شروع کے  مصرعیہ صرف آخری مصرعہ ہر بند کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ پوری نظم ایک لڑکی میں  پروئی ہوئی ہوتی ہے جس سے نظم میں  معنوی ربط وآہنگ برقرار رہتا ہے۔

مسمّط کی آٹھ قسمیں  ہیں ۔ مثلّث، مربع، مخمّس، مسدّس، مسبع، مثمن، متسع، معشر

\tمثلّث\tجس میں تین مصرعے ہوں

\tمربع\tجس میں چار مصرعے ہوں

\tمخمّس\tجس میں پانچ مصرعے ہوں

\tمسدس\tجس میں چھ مصرعے ہوں

\tمسبّع\tجس میں سات مصرعے ہوں

\tمثمن\tجس میں آٹھ مصرعے ہوں

\tمتسع\tجس میں  نومصرعے ہوں

\tمعشر\tجس میں  دس مصرعے ہوں

مثلّث:   مثلّث میں ہر بند تین مصرعوں  پر مشتمل ہوتا ہے پہلے بند کے تینوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں  اور باقی بندوں  کے پہلے دو مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں  اورتیسرا یعنی آخری مصرعہ تمام بندوں  کا ایک ہی قافیہ میں  ہوتا ہے۔ جو ہر بند کے آخر میں  دہرایا جاتا ہے جسے ٹیب کا مصرعہ یا مصرع ترجیع کہتے ہیں ۔ اسی طرح ہر بند اسی ترتیب سے ہوگا البتہ ہر بند کے دو مصرعوں  کا قافیہ پہلے بند سے مختلف ہوگا۔

مربع :  مربع میں  ہر بند چار مصرعوں  پر مشتمل ہوتا ہے اس کے بھی پہلے بند کے چاروں  مصرعے ہم قافیہ ہوں  گے اور بعد کے بندوں  میں  شروع کے تین مصرعے ہم قافیہ ہوں  گے لیکن چوتھے مصرعے کا قافیہ وہی ہوگا جو پہلے بند کے چوتھے یعنی آخری مصرعے کا قافیہ تھا۔ مربع کی ایک یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ کسی نظم کے چاروں  مصرعے ہم قافیہ ہوں ۔

مسحط کی تمام قسموں  میں  مخمس اور مسدس فارم اردو میں  زیادہ مصروف و مقبول ہے ۔

مخمس :\tمخمس کے پانچ مصرعے ہوتے ہیں  پہلے بند کے پانچویں  مصرعے ہم قافیہ ہوں  گے اور باقی بندوں  میں بھی ہر بند کے چار مصرعوں  کا قافیہ ایک ہوگا اور آخری مصرعہ پہلے بند کے آخری مصرعے کا ہم قافیہ ہوگا۔ البتہ یہ صورت بھی رائج ہے کہ بعدو الے بندوں  میں  ترجیع اور بیت بھی ہوسکتی ہے ۔

مسدس:   یہ اردو شاعری کی سب سے مقبول ترین شعری ہیئت ہے اس ہیئت میں  بڑی تعداد میں  مرثیہ اور بے شمار نظمیں  لکھی گئی ہیں ۔ اس کے بند چھ مصرعوں  پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس کے پہلے بند میں  چھ مصرعے ہم قافیہ ہوسکتے ہیں  لیکن عموماً ہر بند میں  چار پہلے مصرعے ہی ہم قافیہ ہوتے ہیں  اور آخری دو مصرعے مختلف قافےے میں  ہوتے ہیں  ۔ان آخری دو مصرعوں  کو بیت کہتے ہیں  ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیت کے دونوں  مصرعے ہر بند میں  دہرائے جائیں ۔ اس کو ترجیع بند مسدس کہتے ہیں ۔ حالیؔ کی نظم ’’مدو جزر اسلام‘‘ اور اقبال کی نظم ’’شکوہ‘‘ مسدس ہیئت میں  لکھی گئی ہے ۔ اقبالؔ کی نظم’’ شکوہ‘‘ سے بند نمونے کے طور پر دیکھئے جس میں  چار مصرعے ہم قافیہ ہیں  اور بعد کے دو مصرعے الگ قافیہ میں  لکھے گئے ہیں  ۔دوسرے تمام بندوں  میں  یہی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے۔

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں  مشہور ہیں  ہم

قصۂ درد سناتے ہیں  کہ مجبور ہیں  ہم

ساز خاموش ہیں  فریاد سے معمور ہیں  ہم

نالہ آتا ہے اگر لب تو معذور ہیں  ہم

اے خدا شکوۂ اربابِ و فا بھی سن لے

خوگرِ حمد سے تھوڑاسا گلہ بھی سن لے